اللّٰہ کی قدرت پر قربان جائیں جو شیزوفرینیا اور پاگل مریضوں کو ٹھیک کرنے والا پودا قبرستان کے ماحول میں اُگاتا ہے، دوستو ہومیوپیتھی میں کئی ایسی شہرہ آفاق ادویات ہیں جو شیزوفرینیا اور پاگل مریضوں کو تندرست کر دیتی ہیں، مگر ان کو دینے یا نا دینے کا حتمی فیصلہ ایک معالج ہی کرتا ہے، اور ہومیوپیتھی کا اصول ہے کہ لوہے کو لوہا ہی کاٹتا ہے یا چاند کو صرف نُور یعنی حضرت مُحمد ﷺ ہی کاٹ سکتے ہیں۔ یعنی نور کو نور ہی کاٹ سکتا ہے۔ لہذا آج آپ کو قبرستان میں بکثرت اُگنے والے خوفناک پودے کی روداد سناتے ہیں۔ اور میں نے اس پودے سے بننے والی ہومیوپیتھک دوائی سے درجنوں شیزوفرینیا اور نیم پاگلوں کو ٹھیک کیا ہے، یہ لوگ کس طرح کے ہوتے ہیں آئیے ایک خوفناک پودے کی مماثلت سے سمجھتے ہیں۔
یہ پودا آخر قبرستان کے درودیوار پر ہی کیوں اُگتا ہے ؟ اس کو شیطانوں کا شیطان کیوں کہا جاتا ہے؟ اس دوا کو سمجھنے کے لیے آپ کو رات کی تاریکی میں قبرستان وِزٹ کرنا پڑے گا۔کچھ دواؤں کو سمجھنے کے لیے ساری ذندگی لگ جاتی ہے۔ اور اگر آپ پر سیکھنے کا جنون سوار ہو اور اللہ کی مہربانیاں ہوں تو راز آشکار ہوتے ہیں سٹرامونیم بھی ایک ایسی ہی دوا ہے۔ چلیے اب آپ کو آدھی رات قبرستان کی سیر کروائیں جب پورا چاند آسمان پر تیرتا ہے۔اور کُتے بلیاں ڈر اور وحشت سے روتے ہیں۔
گاؤں دیہات کی جوشیلی و خوبصورت لڑکیاں محبت میں ناکام ہوکر اکثر جب خودکشی کرتی تھیں تو وہ اسی پھُول کی پنکھڑیاں کھا کر کرتی تھیں جتنا یہ پھول زہریلا ہے اتنا اس کا پھل بھی زہریلا ہے۔ اسے اردو اور ہندی میں دھتورا کہتے ہیں اور انگریزی میں Devil’stree یعنی شیطان کا درخت کہتے ہیں۔
اس کی تمام خصوصیات شیطان کی سی ہیں چھوٹے چھوٹے شیطان تو اس سے دامن بچا کر نکل جاتے ہیں اور بڑے شیطانوں کو اس سے آنکھ ملانے کی ہمت نہیں۔ یاد رہے 70% جادو جنات کے کیسز اِسی دوا سے حل ہو جاتے ہیں، کیونکہ اصل میں دماغ 🧠 کے neurotransmitter کیمیکلز out of balance ہو جاتے ہیں، ورنا اِس دوا سے بڑا جن اور شیطان 👿 کوئی اور نہیں۔ اسی ماحول میں جن اور شیطان رہتے ہیں جہاں پر اُگنا اس کا معمول ہے۔
یہ بہت بڑا زہر ہے اس لیے یہ ہومیوپیتھی کی بہت بڑی دوا ہے۔ اس کے پھول کی خوشبو ہی آپ کے زہن کو اُلٹ دیتی ہے۔ یہ پودا نہ تو جنگل بیابان میں اگتا ہے اور نہ صحراؤں میں بلکہ یہ قبرستان کے دروازوں درودیوار پر اپنے آپ ہی اُگ آتا ہے۔ رات کی تاریکی میں شہر سے دور کسی قبرستان کا ماحول ہیبت ناک تو ہوتا ہی ہے۔ چاندنی رات میں جب پورا چاند آسمان پر تیر رہا ہو تو یہاں ماحول اور بھی ہیبت ناک ہوجاتا ہے۔کیونکہ اس سناٹے میں اکثر کتوں اور بلیوں کے رونے اور سسکنے کی آوازیں بھی شامل ہو جاتی ہیں ۔ اگر آپ میں اتنی ہمت ہے کہ کسی ویران قبرستان کی چار دیواری کے پاس چاندنی رات میں اپنا کیمرہ اور فلیش گن لےکر اس کے پھولوں اور پتوں کا مشاہدہ کرینگے تو آپ بہت کچھ سیکھ جائیں گے۔اس کی ایک ایک علامت آپ پر واضح ہو جائے گی۔ کبھی ایسا محسوس ہوگا کہ کسی قبر پر نور جیسا چمکا تھا اور کبھی ایسا محسوس ہوگا جیسے کسی قبر پر کالا سایا منڈلا رہا ہے۔ یہ درخت اس ماحول کی ہر جنبش کو اپنے اندر جذب کرتا رہتا ہے۔
رات کی تاریکی میں جب کتے, بلیاں اور بھیڑیے روزی تلاشنے کے لیے نکلتے ہیں تو اس کی پتیاں سِمٹ جاتی ہیں ۔ جب پورے چاند سے خوف کھا کر یہ جانور روتے ہیں تو تب بھی شاخوں اور پتیوں پر یہی جنبش ہوتی ہے۔ آخر یہ جانور کتے بلیاں بھیڑیے چودھویں رات کے چاند سے اتنا کیوں ڈرتے اور خوف کھاتے ہیں۔ یہ بعد میں بتایا جائے گا۔ یہ موت اور زندگی کا رقص , شیطانی چکر,
یہ ڈر یہ خوف یہ روحانی اثرات سب ہی تو ہیں جو اس درخت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ دنیاوہ باتیں اور آخرت کا منظر بھی کیونکہ اس کی جڑیں کچھ تو قبرستان کے اندر قبروں میں داخل ہوجاتی ہیں اور کچھ قبرستان کے باہر کی دنیا میں داخل ہوجاتی ہیں۔اس لیے اس میں آخرت اور دنیا دونوں کے مِلے جُلے اثرات ہیں۔ استادِ محترم مرزا انور بیگ صاحب (مشہورِ زمانہ انڈین سرجن, ہومیوپیتھ) کی کتاب ” میری ناکامیاں ” سے کچھ کیسز پڑھنے کو مِلے جن میں سے ایک کیس یوں تھا کہ ایک پندرہ برس کا لڑکا شبِ برات کی شب اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ قبرستان میں فاتحہ پڑھنے چلا گیا اور وہاں ڈر گیا صبح سخت بخار ہوا غفلت کی حالت میں وہ جلدی جلدی قرآن کی آیتیں سنانے لگا حالانکہ اس کو قرآن پڑھنا آتا ہی نہ تھا ۔ اس لیے مولوی یا عامل جب کوئی سورت پڑھتا تو اس کے ساتھ ہی وہی آیت وہ خودبھی پڑھنا شروع کر دیتا تھا۔اور ان سے کہیں زیادہ جلدی۔ کیس ٹیکنگ کے بعد سٹرامونیم تجویذ کی جس سے ناصرف ذہنی بلکہ جسمانی حالت بھی ٹھیک ہوگئی ۔ وہ مولوی جو اس کا علاج کر رہے تھے ان کو میری موجودگی ناگوار گزری اور ایک مولوی صاحب نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ ڈاکٹر صاحب جاؤ یہ آپ کے بس کی بات نہیں۔
اس دوا کا سب سے گہرا اثر دماغ پر ہوتا ہے۔ آج سے سوا دو سو سال پہلے ایلوپیتھی کے اُس وقت کے سب سے بڑے MD ڈاکٹر اور ہومیوپیتھی کے موجد عظیم ہنیمن نے خود اس ڈرگ کو صحت مند انسانوں پر آزمایا اور تقریباً سبھی پر ایک جیسی پاگل پن اور غشی کی علامات پیدا ہوئیں، اور اس پرووِنگ کو
Fragmenta de Viribus Medicamentorum Positivis
میں 1805 میں محفوظ کر لیا گیا، بعد ازاں ہنیمن کے دیگر ساتھیوں نے بھی دوبارہ درجنوں صحت مند رضاکاروں پر تجربات کیے اور تقریباً سبھی کو ایک جیسی علامات کا سامنا کرنا پڑا، اور یوں اِس ڈرگ Stramonium کی proving کو Materia Medica Pura میں بھی درج کر دیا گیا۔ حتیٰ کہ Herring نے بھی اس ڈرگ کی پروونگ خود کی اور اسے ہیرنگ گائیڈنگ سمپٹمز میں درج کیا۔
سٹرامونیم کا پروونگ کے وقت دماغ پر کیمیکل mechanism کیا تھا؟
اسٹرامونیم میں ایسے کیمیائی اجزا پائے جاتے ہیں جو دماغ اور اعصاب میں موجود Acetylcholine
نامی کیمیائی پیغام رساں مادے کے مخصوص Receptors کو روک دیتے ہیں۔ عام حالت میں ایسیٹائل کولین دماغ میں توجہ، یادداشت، حسی معلومات کی سمجھ اور اردگرد کے ماحول کو صحیح طور پر محسوس کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جب سٹرامونیم کے اجزا ان Receptors کو روک دیتے ہیں تو دماغ تک آنے والی حسی معلومات کی صحیح ترتیب اور تشریح متاثر ہونے لگتی ہے، جن صحت مند افراد نے اس ڈرگ کو کھا کر پروونگ میں حصہ لیا تھا ان میں یہ علامتیں واضح تھیں سب سے اہم خاص بات یہ تھی سب پر خوف اور ہذیان طاری ہوا, وحشیانہ ہذیان لگاتار بکواس کرتے رہنا, چلانا, Delirium , Visual & auditory Hallucinations بار بار دعائیں مانگنا, خوفناک چیزیں نظر آنا، غیر موجود آوازیں یا چیزیں محسوس کرنا، اچانک غصہ یا تشدّد، جسم میں تشنج یا جھٹکے لگنا، چہرہ سُرخ لال, آنکھیں چمکیلی اور غصیلی, مختلف پہلوؤں سے لیٹے اور بات کرے, بار بار جگہ بدلے اور بھاگ نکلنے کی تلاش میں ہو, اکیلے رہنے سے ڈر, لہٰذا آدمیوں میں رہنا چاہے, اندھیرے اور ہر چمکدار شے سے ڈر, پانی سے ڈر, بارش گرج چمک سے ڈر, کتے بلے سے ڈر, آئینہ سے ڈر, اپنے آپ کو بُرا بھلا کہے, منتیں سماجتیں کرے، اس کا مریض اگر عشق میں ناکام ہو تو اپنی محبوبہ پر تیزاب پھینکتا ہے ذندہ جلا ڈالتا ہے اور بعد میں خود بھی مر جاتا ہے۔ ڈر سے تھر تھر کانپتا ہے اور مدد کے لیے دوسروں کو کس کر پکڑتا ہے, ایک طرف ڈر ہے ایک طرف جنون, ایک طرف بزدلی تو دوسری طرف روشنی سے ڈر, پل میں ہنسے پل میں روئے اور پل میں قسمیں کھائے, پل میں بپھرے پل میں گھگھیاوے غرض یہ کہ دوہری شخصیت ہے ایسا کیوں ہے ؟ پہلے ہی بتایا جا چکا کہ یہ درخت قبرستان کے احاطہ میں ہوتا ہے درودیوار پر ہوتا ہے یعنی ایک طرف قبرستان کے اندر موت اور دوسری طرف قبرستان کے باہر ذندگی ,پس یہ ذندگی اور موت کا رقص اسی لیے, محبت اور نفرت اسی لیے۔ ہماری سوسائٹیز میں اس دوا کے بیشمار مریض ملیں گے ۔
الحمداللہ اس دوائی نے مجھے شہرت دلوانے میں بُہت contribution کی ہے۔ معزز قارئین آج کے اس آرٹیکل کا مقصد تھا، ہومیوپیتھی کا قانون مماثلت عام لوگوں اور مریضوں تک پہنچانا، کہ کیسے ہومیوپیتھی بیماری سے ہُو بہو سو فیصد ملتی جُلتی علامات والے مریض کے اندر وہی دوا کی صورت میں same علامات ڈال کر اصل بیماری کو باہر کھینچ لاتی ہے، مگر خام حالت میں نہیں بلکہ ہومیوپیتھک پوٹینسی کی صورت میں، جبکہ خام حالت میں ہومیوپیتھی میں ڈرگ پرووِنگ کی جاتی ہے۔ اور ادویات کے خواص کا پتا لگایا جاتا ہے، اور یہ تجربہ کسی ایک مریض پر نہیں کیا جاتا بلکہ ہر ایک ایک دوا کو سینکڑوں صحت مند انسانوں پر آزمایا گیا تھا،
تا کہ وہ اپنے احساسات اور خیالات تک بتا سکیں، اپنے خواب اور خوف تک بتا سکیں، اپنی بیماری کی exact لوکیشن تک بتا سکیں۔
جو کہ الگ الگ عُمر کے گروپس، مرد و خواتین کے گروپس، Gender specification امراض کے لئے، مُختص کیے گئے تھے، اور وہ ساری کی ساری ڈرگ پروونگز میٹریا میڈیکا کی صورت میں موجود ہیں، اڑھائی صدیاں گُزر گئیں، ایک دوا تک تبدیل نہیں ہو سکتی، اسے کہتے ہیں ثبات پذیر سائنس۔ معزز قارئین ایک ہومیوپیتھ غلط ہو سکتا، مگر ہومیوپیتھی قدرت اور روحانیت کی تخلیق ہے، یہ کبھی غلط نہیں ہو سکتی، ابھی کل ایک محترم ڈاکٹر صاحبہ ایک خاص پودے کے خوف اور حیرت ناک اثرات پر تذکرہ کر رہی تھیں، جو کہ انسان کی یاداشت ختم کر سکتا ہے، مجھے اللّٰہ کی قدرت یاد آنے لگی کہ یہی پودا ڈرگ proving میں مریض کو delirium، convulsions اور memory loss میں مبتلا کرے گا، جبکہ ہومیوپیتھی میں یہی پودا پوٹینسی کی صورت میں اِسی حالت کے مریض کو شفایاب کر دے گا، دوستو اب سمجھ آیا اللّٰہ نے کوئی بھی چیز بیکار پیدا نہیں کی، ایک ایک پودے میں راز پوشیدہ ہیں، جب میں نے ڈاکٹر صاحبہ کی لگائی گئی curious پوسٹ سے اُس نام کو اپنے لٹریچر میں سرچ کیا تو پتا چلا اُس کی پروونگ تو اڑھائی صدیاں پہلے ہی ہومیوپیتھی میں ہو چُکی ہے۔ سبحان اللّٰہ، اسی لئے کہا گیا ہے اللّٰہ نے دنیا میں کوئی بیماری ایسی پیدا نہیں کی جِس کا علاج بھی پیدا نا کیا ہو، ہمیں بس قدرت کو explore کرنے اور راز آشکار کرنے کی ضرورت ہے۔ دوستو اگر آپ کو میرا یہ آرٹیکل اچھا لگا ہو یا فائدہ مند لگے تو صدقہ جاریہ کے طور پر دوسروں تک شیئر کریں، میری پروفائل کو follow کر لیجیے،اور group میں کمینٹ دینے کی بجایے میری پروفائل وال میں آ کر اِسی پوسٹ کے کمینٹ سیکشن میں کمینٹ کیجیے، تا کہ میرے ریکارڈ کا حصہ بن جائے۔ اپنا کمینٹ دینا نا بھولیے گا، مجھے آپ کی رائے اور حوصلہ افزائی کی سخت ضرورت ہے۔
تحریر و تحقیق: کلاسیکل ہومیوپیتھک ڈاکٹر سہیل احمد المعروف نواب احمد مرزا


Leave a Reply